38 داعی الی اللہ کے بارے میں جب لوگوں کو شبہ ہوجاتا ہے کہ اس کا مقصد دنیا کمانا ہے تو اس کی بات اپنا اثر کھو دیتی ہے، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا کہ آپ مشرکین مکہ کے سامنے اس بات کی صراحت کردیجیے کہ مجھے تم سے کسی دنیاوی مفاد کی لالچ نہیں ہے، میں اپنی دعوت میں نہایتط مخلص ہوں اور اپنے اجر و ثواب کی امید اللہ سے رکھتا ہوں، جو میری سچائی اور اخلاص سے خوب واقف ہے۔
اے میرے نبی ! آپ یہ بھی کہہ دیجیے کہ میرا رب اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے، اپنی نبوت کے لئے چن لیتا ہے اور اس پر اپنی وحی نازل کرتا ہے اور چونکہ وہ غیب کی تمام باتوں کو خوب جانتا ہے، اسی لئے وہی بہتر علم رکھتا ہے کہ کون رسالت و وحی کا بار گراں اٹھانے کا اہل ہے۔
آپ یہ بھی کہہ دیجیے کہ اسلام آچکا، دعوت توحید ظاہر ہوگئی اور باطل نے دم توڑ دیا اور ہمیشہ کے لئے رخصت ہوگیا۔
مشرکین آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ محمد اپنے باپ دادوں کا دین چھوڑ کر گمراہ ہوگیا، تو آپ ان سے کہہ دیجیے کہ اگر میں اپنے نفس کا غلام بن کر گمراہ ہوگیا ہوں، تو اس کا وبال مجھ پر پڑے گا اور اگر میں نے اللہ کی بھیجی ہوئی ہدایت کو قبول کرلیا ہے اور راہ راست پر گامزن ہوگیا ہوں تو مجھ پر یہ اللہ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے مجھے اس کی توفیق بخشی، اور وہ بڑا سننے والا اور بہت ہی قریب ہے۔
مفسرین لکھتے ہیں کہ آیت میں مذکور آخری بات کہ مجھے تو دعوت الی اللہ کا اجر صرف اپنے رب سے چاہئے، تمام داعیان حق کے لئے عام ہے، اس لئے جب اللہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو (عظیم المرتبت نبی ہونے کے باوجود) یہ حکم دیا کہ اپنے بارے میں ایسی بات کہیں تو دوسرے لوگ بدرجہ اولیٰ اس حکم میں داخل ہیں۔