فهرس الكتاب

الصفحة 4166 من 6343

(43) قیامت کے دن مومن و کافر، موحد و مشرک اور نیک و بد کے درمیان جب اللہ کا فیصلہ صادر ہوجائے گا، تو دونوں جماعتوں کو ان کے آخری انجام کی طرف بھیج دیا جائے گا۔ مندرجہ ذیل آیتوں میں اسی کی تفصیل بیان کی جا رہی ہے کہ کافروں کو فرشتے پوری سختی کے ساتھ ڈانٹتے پھٹکارتے، جماعتوں کی شکل میں جہنم کی طرف زبردستی ہانک کرلے جائیں گے، جیسا کہ سورۃ الطور آیت (13) میں آیا ہے: (یوم یدعون الی نار جھنم دعا) " جس دن وہ لوگ جہنم کی آگ میں دھکے دے کر پہنچائے جائیں گے" اور ان کے وہاں پہنچتے ہی فوراً جہنم کے دروازے کھول دیئے جائیں گے، تاکہ ان کے عذاب دیئے جانے میں کوئی تاخیر نہ ہو پھر جہنم کے سخت دل اور سخت لہجہ داروغے بطور زجر و توبیخ ان سے کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے اللہ کے پیغامبر نہیں آئے تھے جو تمہارے رب کی آیتیں پڑھ کر تمہیں سمجھاتے تھے، اتباع حق کی دعوت دیتے تھے اور آج کے دن کے عذاب سے ڈراتے تھے؟ تو اہل جہنم کہیں گے کہ ہاں آئے تھے، ہمیں ڈرایا تھا اور دلائل و براہین کے ذریعہ ایمان و عمل کی دعوت دی تھی، لیکن ہم نے اپنی بدبختی کی وجہ سے ان کی تکذیب کی اور ان کی مخالفت کی تو پھر ان سے کہہ دیا جائے گا کہ تم لوگ جہنم کے ان دروازوں میں داخل ہوجاؤ جو تمہارے لئے کھول دیئے گئے ہیں۔

حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ چونکہ ان کے گناہوں کو دیکھ کر تمام حاضرین میدان محشر پکار اٹھیں گے کہ واقعی یہ لوگ عذاب نار کے ہی مستحق ہیں، اسی لئے یہاں " قول" کی نسبت کسی خاص کی طرف نہیں کی گئی ہے اور شوکانی لکھتے ہیں کہ یہ بات ان سے عذاب کے فرشتے کہیں گے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جہنمی جہنم میں ہمیشہ کے لئے رہیں گے اور جو لوگ دنیا میں کبر و غرور کی وجہ سے حق کی اتابع نہیں کرتے تھے ان کا وہ بڑا ہی برا ٹھکانا ہوگا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت