فهرس الكتاب

الصفحة 4033 من 6343

(14) اوپر کی آیتوں میں بعث بعد الموت اور حساب و جزا کی جو بات آئی ہے، اسی کی مزید تاکید کے طور پر اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا ہے کہ ہم نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی مخلوقات کو بے مقصد نہیں پیدا کیا ہے، بلکہ اس لئے پیدا کیا ہے تاکہ لوگ وحدانیت پر ایمان لائیں اور صرف ہماری عبادت کریں، لیکن کفار مکہ اور دیگر اہل کفر اس زعم باطل میں مبتلا ہیں کہ ان کی پیدائش میں کوئی حکمت و مصلحت نہیں ہے، یہ ان کی خام خیالی ہے اور ان کافروں کا ٹھکانا جہنم کی وہ وادی ہوگی جس کا نام " ویل" ہے کیا یہ بات معقول ہو سکتی ہے کہ ہم اہل ایمان اور عمل صالح کرنے والوں کو ان لوگوں جیسا بدلہ دیں جو زمین میں فساد برپا کرتے ہیں، یا تقویٰ کی راہ اختیار کرنے والوں کو ان لوگوں جیسا بنا دیں جو ہمارے احکام کی مخالفت کرتے ہیں اور ہم سے دشمنی کرتے ہیں۔

حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ جب معاملہ ایسا ہے تو ایک دوسرے عالم کا ہونا یقینی ہے، جہاں اللہ کے فرمانبردار بندے کو اچھا بدلہ دیا جائے گا، اور نافرمان کو سزا دی جائے گی، آگے لکھتے ہیں ہم دیکھتے ہیں کہ ظالم و سرکش کے مال و اولاد میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور اسی حال میں اس کی موت آجاتی ہے اور اللہ کا اطاعت گذار و مظلوم بندہ گھٹ گھٹ کر جان دے دیتا ہے اس لئے یقینی ہے کہ وہ عادل و حکیم اللہ جو ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا ہے، دونوں کے درمیان ایک دن انصاف کرے گا اور ایسا اگر یہاں نہیں ہوگا تو ایک دوسرا عالم ضرور ہے جہاں مظلوم کو انصاف ملے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت