فهرس الكتاب

الصفحة 2806 من 6343

37۔ اس آیت کریمہ میں اس طرف اشارہ ہے کہ کافر چند سالہ دنیاوی زندگی میں اللہ کی عبادت نہ کر کے آخرت میں بہت بڑا خسارہ اٹھائیں گے اگر انہوں نے بھی دنیا میں مومنوں کی طرح عمل صالح کیا ہوتا تو آج وہ بھی جنت کے حقدار ہوتے، اللہ تعالیٰ کافروں سے پوچھے گا کہ جس دنیاوی زندگی کے عیش و عشرت میں تم مگن رہے وہ کتنے دن کی زندگی تھی، تو وہ شدت کرب و الم کی وجہ سے دنیا کا عیش و آرام بھول جائیں گے اور انہیں ایسا معلوم ہوگا کہ جیسے دنیا میں انہوں نے صرف ایک دن یا اس سے بھی کم وقت گزارا تھا، اور پریشانی اور تکلیف و اذیت سے تنگ آکر کہیں گے کہ یا رب ! تیرے گننے والے فرشتے زیادہ جانتے ہیں کہ ہم کتنے دن رہے تھے، تو اللہ تعالیٰ پھر ان سے کہے گا کہ بہرحال تم لوگ دنیا میں کم ہی دن رہے تھے، اصل طویل زندگی تو اب شروع ہوئی ہے، اگر تم اس حقیقت پر ایمان لائے ہوتے اور فانی زندگی کو ابدی زنگی پر ترجیح نہ دی ہوتی اور صبر و استقامت کے ساتھ اللہ کی بندگی کی ہوتی تو مومنوں کی طرح آج تم بھی کامیاب اور فائز المرام ہوتے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت