فهرس الكتاب

الصفحة 5745 من 6348

[27] اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جب انہیں اللہ کی آیات اور اس کے احکام کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کو کہا جاتا تو وہ تسلیم کرنے کے بجائے اکڑ بیٹھتے تھے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جب انہیں نماز کے لیے کہا جاتا تو انکار کردیتے تھے۔ کہتے ہیں کہ یہ آیت قبیلہ بنو ثقیف کے حق میں نازل ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں نماز ادا کرنے کا حکم دیا تو کہنے لگے کہ نماز میں تو جھکنا پڑتا ہے اور جھکنے میں ہمیں شرم محسوس ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے اس دن تباہی ہی تباہی ہے۔ ایسے لوگ قیامت کے دن اللہ کے حضور سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن کر نہ سکیں گے۔ ان کی پشتوں کے پٹھے اکڑ جائیں گے جیسا کہ سورۃ القلم کی آیت نمبر 42 اور 43 میں پہلے گزر چکا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت