[30] سیدنا نوح علیہ السلام کا قصہ پہلے سورۃ اعراف کے رکوع نمبر 8 میں بھی گذر چکا ہے لہٰذا وہ حواشی بھی مدنظر رکھے جائیں۔
[31] یعنی تمہیں صاف صاف بتارہا ہوں کہ کن باتوں اور کاموں کے ارتکاب سے تم پر عذاب آنے کا اندیشہ ہے اور اس عذاب سے بچنے کے ذرائع کیا ہیں؟