فهرس الكتاب

الصفحة 2781 من 6348

[84] پہلی آیت میں صرف زمین اور اس میں موجودات کی ملکیت کے متعلق سوال تھا۔ اس آیت میں پوری کائنات کی ملکیت کا سوال ہے۔ کفار مکہ کو یہ بھی اعتراف تھا کہ اس پوری کائنات کا مالک و مختار صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کے معبودوں کے اس کائنات میں تصرف کے اختیار کہاں سے آگئے؟ انھیں اس بات سے ڈر نہیں لگتا کہ اللہ کے تصرف و اختیار میں ایسی چیزوں کو شریک بنا رہے ہیں۔ جو دوسروں کے تو کیا، اپنے بھی نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں۔ ایسے صریح ظلم اور اس کے انجام سے انھیں ڈر نہیں لگتا ؟

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت