[16] یعنی وہ جسے چاہے فائدہ پہنچا سکتا ہے خواہ حالات اس کے برعکس نظر آرہے ہوں۔ اسی طرح وہ جسے چاہے ذلیل و رسوا کرسکتا ہے اس لئے یہ کائنات ساری کی ساری اس کی مملوک ہے اور ظاہری اور باطنی اسباب اسی کے قبضہ قدرت ہیں۔ جن میں وہ ہر طرح سے تصرف کرسکتا ہے۔ ہاں اگر تم اپنی کرتوتوں اور بدباطنی سے باز آجاؤ تو وہ تمہیں معاف بھی کردے گا۔ کیونکہ حقیقتًا وہ اپنے بندوں پر مہربانی کا سلوک کرنے سے ہی خوش ہوتا ہے۔