[9] یہ ان کے ظلم اور زیادتی کی آخری حد تھی۔ نہ انہوں نے اپنے اندر کی شہادت پر غور کیا، نہ نظام کائنات میں غور کیا اور رسولوں نے انھیں جب اصل حقائق سے آگاہ کیا تو انھیں صرف جھٹلایا ہی نہیں بلکہ ان کا اور اللہ کی آیات کا مذاق بھی اڑانے لگے۔ جب ان کی سرکشی اس حد تک پہنچ گئی اور عملی طور پر اس ظلم اور زیادتی میں آگے ہی بڑھتے چلے گئے تو انھیں ان کی بداعمالیوں کی سزا بھی اتنی ہی بری ملی جس حد تک ان کے اعمال برے تھے۔