[34] سیدنا شعیب علیہ السلام کا موسیٰ کو اپنے پاس بلانا:۔ یہ عورتیں دل ہی دل میں ان کی احسان مند تھیں کہ ایک اجنبی شخص نے ان سے کیسی بھلائی کی ہے۔ واپس جاتے ہوئے مڑ کر جو دیکھا تو موسیٰ علیہ السلام ایک درخت کے سایہ میں آبیٹھے تھے۔ اس سے انہوں نے یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ یہ کوئی مسافر ہے۔ جس کے رہنے کے لئے یہاں کوئی ٹھکانا نہیں ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کو ابھی سایہ میں بیٹھے اور اللہ سے دعا کئے تھوڑی ہی دیر گزری تھی، کہ ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک لڑکی لجائی شرمائی منہ چھپائے اور گھونگٹ لٹکائے آپ کے پاس آکر کہنے لگی کہ میرا والد آپ کو بلا رہا ہے۔ آپ نے ہماری بکریوں کو پانی پلا کر ہم پر جو احسان فرمایا ہے وہ آپ کو اس کا کچھ بدلہ دینا چاہتا ہے۔ گویا اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا کو بہت بلند شرف قبولیت بخشا اور جس خیر کو طلب کر رہے تھے اللہ نے غیر متوقع طور پر اس خبر کا فورًا سامان کردیا۔
موسیٰ علیہ السلام فورًا اس لڑکی کے ساتھ ہو لئے۔ اسی بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ بھوک سے کس قدر بے تاب تھے۔ پھر وہ اس جگہ ٹھکانا بھی چاہتے تھے اور اپنا کوئی مونس غم خوار بھی انھیں درکار تھا۔ ورنہ ایک شریف آدمی نے اگر عورت ذات کو پریشانی میں مبتلا دیکھ کر اس کی کوئی مدد کردی ہو تو حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے عالی ظرف انسان کے لئے یہ کیسے ممکن تھا کہ اس کام کا بدلہ دینے کے لئے کہا جائے تو وہ فورًا اٹھ کھڑے ہوں۔ آپ نے بھی اس لڑکی سے کہا کہ میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں مگر میں آگے آگے چلوں گا تم میرے پیچھے پیچھے آؤ۔ البتہ مجھے راستہ کی رہنمائی کرتے جانا اور یہ آپ نے اس لئے کہا کہ اجنبی عورت پر عمدًا نظر پڑنے کی نوبت نہ آئے۔ چنانچہ وہ پیچھے پیچھے راستہ بتلاتی انھیں لے کر اپنے گھر پہنچ گئی۔
[35] مدین میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کےقیام کا بندوبست:۔ گھر پہنچ کر موسیٰ علیہ السلام نے لڑکیوں کے باپ کو اپنی زندگی کے مختصرًا اور واقعہ قتل اور وہاں سے فرار ہونے کا واقعہ پوری تفصیل کے ساتھ سنا دیا۔ اگرچہ لڑکیوں کے باپ کے متعلق یہ اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا وہ شعیب علیہ السلام تھے یا کوئی اور بزرگ تھے۔ لیکن اکثر مفسرین نے اسی قول کو ترجیح دی ہے کہ وہ شعیب علیہ السلام تھے۔ بہرحال جو بزرگ بھی وہ تھے، نیک اور دیندار تھے وہ دین ابراہیمی کے پیرو تھے۔ ان میں اور موسیٰ علیہ السلام کے عقائد و خیالات اور کردار میں پوری ہم آہنگی پائی جاتی تھی۔ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام کے حالات سن کر انہوں نے تسلی دی کہ اب گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ آپ اس ظالم قوم کی حکومت کی حدود سے باہر آچکے ہیں اور اب آپ میرے ہاں قیام فرمائیے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے وقتی طور پر موسیٰ کے قیام و طعام کا مسئلہ حل فرما دیا۔