[69] اس آیت کے بھی دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ جتنے بھی نبی ان کے آس پاس مبعوث رہے ہیں۔ اب سب کی تعلیمات ان تک بھی پہنچتی رہی ہیں اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جب سے قرآن کا نزول شروع ہوا ہے۔ لگاتار انھیں ہدایت کی آیات پہنچ رہی ہیں۔ جس کا مقصد یہی تھا کہ وہ کچھ نصیحت قبول کرلیتے۔ اور اگر یہ فی الواقع ہدایت کے طالب ہوتے تو کب کے ہدایت قبول کرچکے ہوتے۔