[44] انہی مذکورہ اشیاء کا ذکر کرکے انسان کو دعوت دی جارہی ہے کہ یہ سب کچھ معلوم کرلینے کے بعد تمہیں چاہیے کہ فورًا ان اشیاء کے خالق کی طرف رجوع کرو۔ اور صرف اسی کی طرف رجوع کرو۔ کیونکہ تخلیق، ملکیت اور تصرف سب کچھ اسی کا ہے۔ دوسرا کوئی اس میں حصہ دار نہیں۔