فهرس الكتاب

الصفحة 4453 من 6348

[79] یعنی مقدمہ کا اقرار کرتے ہیں مگر اس کے منطقی نتیجہ کا انکار کردیتے ہیں۔ اصل میں یہ سوال یوں بنتا ہے کہ تمہارے بتوں نے نہ تو تمہیں پیدا کیا ہے۔ نہ تمہارے نفع و نقصان کے مالک ہیں پھر وہ تمہاری عبادت کے حقدار کیسے بن گئے؟ یہ دھوکا تمہیں کہاں سے لگ جاتا ہے کہ تمہیں پیدا کرنے والا اور تمہاری حاجات پوری کرنے والا تو اللہ ہو اور پرستش تم اللہ کی بجائے دوسروں کی کرنے لگ جاؤ؟

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت