[67] یعنی جو قد آور، مضبوط اور شاہ زور قوم اس طمطراق سے گزر بسر کر رہی تھی اور اس کا ڈنکا بجتا تھا ان کے تباہ شدہ کھنڈرات کو دیکھ کر ان سے عبرت حاصل کرو کہ اللہ کی آیات سے انکار کے نتیجہ میں انھیں یہ سزا ملی تھی اور رسول تو ان کی طرف صرف ہود آئے تھے لیکن اللہ نے رسولوں کا لفظ غالبًا اس لیے استعمال فرمایا ہے کہ تمام رسولوں کی دعوت ایک ہی انداز کی رہی ہے جو توحید اور اصول دین پر مشتمل ہوتی ہے لہٰذا ایک رسول کی تکذیب حقیقتًا سب رسولوں کی تکذیب کے مترادف ہوتی ہے۔