فهرس الكتاب

الصفحة 4337 من 6348

[39] توبہ کی شرائط:۔ یہ خطاب صرف ایمانداروں سے نہیں بلکہ ان کافروں کو بھی شامل ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر الزام تراشیاں کرتے تھے۔ اس آیت میں انہیں اپنی انہی بداعمالیوں سے توبہ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ کافروں کی توبہ اسلام لانا ہے۔ اسلام لانے سے ہی ان کے سابقہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ اور اگر اس کا خطاب ایمانداروں سے ہو تو توبہ کی شرائط اپنے گناہ پر نادم ہونا، پھر اللہ کی طرف رجوع اور توبہ استغفار کرنا اور آئندہ اس کام کو مطلقًا چھوڑ دینے کا عہد کرنا ہے۔ توبہ کی سب سے اہم شرط یہی ہے کہ اللہ کی رضا کے لیے یہ کام چھوڑا جائے۔ اور کوئی شخص کسی دوسری وجہ سے کوئی گناہ کا کام چھوڑ دے تو اس پر توبہ کا اطلاق نہیں ہوگا۔ مثلًا کسی شخص کو معلوم ہوجائے کہ شراب اس کی صحت تباہ کر رہی ہے اور وہ اپنے کئے پرنادم بھی ہوتا اور آئندہ کے لیے شراب نوشی ترک کر دے تو اس پر توبہ کا اطلاق نہیں ہوگا۔ اس طرح کوئی زانی اپنے اس فعل پر نادم ہو اور یہ فعل آئندہ اس لیے ترک کردینے کا عہد کرے کہ اب وہ بوڑھا ہوچکا ہے اور زنا کے قابل ہی نہیں رہا۔ تو یہ اس کی توبہ نہ ہوگی۔ اور اللہ کو تو معلوم ہے کہ کوئی کس نیت سے توبہ کر رہا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت