[40] اس آیت میں یہ دونوں احتمال ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ یہ بھی ان فرشتوں کا ہی کلام ہو جو ایمان پر ڈٹ جانے والوں پر نازل ہوتے ہیں اور دوسرا یہ کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہو۔ فرشتوں کی دنیا میں ولایت کا ذکر کرچکا، آخرت میں یوں ہوگی کہ وہ ہر ہر مقام پر ان کا استقبال کریں گے۔ انہیں سلامتی کی دعائیں اور جنت کی بشارت دیں گے۔