فهرس الكتاب

الصفحة 2788 من 6348

[91] اس آیت میں بھی اگرچہ خطاب بظاہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہے لیکن یہ ہدایت عام مومنوں کے لئے ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں اکثر یہ انداز اختیار کرلیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مشرکین جس طرح اللہ کے حق میں یہ گستاخیاں کر رہے ہیں، عین ممکن ہے کہ ان پر کوئی آفت آکر رہے۔ لہٰذا مومنوں کو یہ ہدایت کی گئی کہ ایسے حالات میں وہ اللہ سے دعا کرتے رہیں کہ اگر ظالموں پر عذاب آئے تو اللہ انھیں اس عذاب سے بچانے کی کوئی صورت پیدا فرما دے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت