فهرس الكتاب

الصفحة 236 من 457

ضروری باتوں کی تعلیم میں نہ شرمانا

جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم با پردہ دوشیزہ سے بھی زیادہ شرم و حیا والے تھے، لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم مردوں اور عورتوں کو ضروری دینی باتوں کی تعلیم دیتے۔توفیق الٰہی سے ذیل میں اس سلسلے میں چند ایک شواہد پیش کیے جا رہے ہیں:

۱۔قضائے حاجت کے آداب کی تعلیم:

۱:حدیث ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ:

امام نسائی رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے ارشاد فرمایا:

'' إِنَّمَا أَنَا لَکُمْ مَثَلُ الْوَالِدِ، أُعَلِّمُکُمْ:إِذَا ذَھَبَ أَحَدُکُمْ إِلَی الْخَلَائِ فَلَا یَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَۃَ وَلَا یَسْتَدْبِرْھَا، وَلَا یَسْتَنْج بِیَمِیْنِہٖ''۔

وَکَانَ یَأْمُرُ بِثَلَاثَۃِ أَحْجَارٍ، وَنَھَی عَنِ الرَّوْثِ وَالرِّمَّۃِ''۔ [1]

'' میں تمہارے لیے باپ کی مانند ہوں، میں تمہیں سکھاتا ہوں:جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت کے لیے جائے،تو قبلہ کی طرف نہ چہرہ کرے اور نہ ہی پشت اور نہ دائیں ہاتھ سے استنجا کرے۔''

اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم تین پتھر استعمال کرنے کا حکم دیتے، اور گوبر اور بوسیدہ ہڈی سے منع

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت