فهرس الكتاب

الصفحة 101 من 457

[بَابُ الدُّنُوِّ مِنَ الإِمَامِ عِنْدَ الْمَوْعِظَۃِ] [1]

[بوقت نصیحت امام سے قریب ہونے کے متعلق باب]

علامہ طیبی رحمہ اللہ تعالیٰ نے شرح حدیث میں تحریر کیا ہے:

'' أَيْ لاَ یَزَالُ الرَّجُلُ یَتَبَاعَدُ عنِ اسْتِمَاعِ الْخُطْبَۃِ، وَعَنِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ الَّذِيْ ھُوَ مَقَامُ الْمُقَرَّبِیْنَ حَتَّی یُؤَخَّرَ إِلٰی آخِرِ صَفِّ الْمُتسفِلین، وَفِیْہِ تَوْھِیْنُ أَمْرِ الْمُتَأَخِّرِیْنَ، وَتَسْفِیْہُ رَأْیِھِمْ حَیْثُ وَضَعُوْا أَنْفُسَھُمْ مِنْ أَعَالِي الْأُمُوْرِ إِلٰی أَسَافِلِھَا۔'' [2]

''یعنی آدمی خطبہ سننے میں پیچھے ہٹتا رہتا ہے اور صف اوّل سے بھی، جو کہ مقربین کی جگہ ہے، یہاں تک کہ نچلے درجے کے لوگوں کی صف میں مؤخر کیا جاتا ہے۔ اس [حدیث میں ] پیچھے رہنے والوں کی کوتاہی اور کم عقلی کو آشکارا کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے آ پ کو بلندیوں کی بجائے پستیوں میں رکھا۔''

۲۔ حدیث اوس بن اوس رضی اللہ عنہ :

امام ترمذی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے۔انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

'' مَنِ اغْتَسَلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَغَسَّلَ، وَبَکَّرَ وَابْتَکَرَ، وَدَنَا، وَاسْتَمَعَ، وَأَنْصَتَ کَانَ لَہُ بِکُلِّ خُطْوَۃٍ یَخْطُوھَا أَجْرُ سَنَۃٍ، صِیَامِھَا وَقِیَامِھَا۔'' [3]

''جس نے جمعہ کے دن خوب اچھی طرح غسل کیا [4] ،صبح سویرے مسجد کی

[2] شرح الطیبي ۴/۱۲۷۷ ـ ۱۲۷۸۔

[3] صحیح سنن الترمذي، أبواب الجمعۃ، باب في فضل الغسل یوم الجمعۃ، رقم الحدیث ۴۱۰ـ۵۰۰،۱/۱۵۳ـ۱۵۴۔ شیخ البانی نے اس حدیث کو [حسن] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو:المرجع السابق ۱/۱۵۴) ۔

[4] حدیث شریف کے اس حصے کا محدثین نے ایک دوسرا معنی یہ بیان کیا ہے کہ:''جس نے خود غسل کیا اور اپنی اہلیہ کو غسل کروایا۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت