فهرس الكتاب

الصفحة 264 من 457

طریقے سے جواب دینے کے جواز پر دلالت کناں حدیث]

۲۔بچے اور والدین کے رنگوں میں اختلاف کے لیے اونٹوں کی مثال:

امام بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ:

' أَنَّ أَعْرَابِیًّا أَتَی رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم، فَقَالَ:'' إِن امرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ، وَإِنّيْ أَنْکَرْتُہٗ''۔

فَقَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم:'' ھَلْ لَکَ مِنْ إِبِلٍ؟''۔

قَالَ:'' نَعَمْ''۔

قَالَ:'' فَمَا أَلْوَانُھَا؟''۔

قَالَ:'' حُمْرٌ''۔

قَالَ:'' ھَلْ فِیْھَا مِنْ أَوْرَقَ؟''۔

قَالَ:'' إِنَّ فِیْھَا لَوُرْقًا''۔

قَالَ:'' فَأَنّی تُرَی ذٰلِکَ جَائَ ھَا؟''۔

قَالَ:'' یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! عِرْقٌ نَزَعَھَا''۔

قَالَ:'' وَلَعَلَّ ھٰذَا عِرْقٌ نَزَعَہٗ''۔ وَلَمْ یُرَخِّصْ لَہٗ فِي الْاِنْتِفَائِ مِنْہُ۔'' [1]

''ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا:''میری بیوی نے ایک کالے لڑکے کو جنم دیا ہے اور بلا شبہ میں اس کا انکار کرتا ہوں [یعنی اس کو اپنا نہیں سمجھتا] ۔''

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا:'' کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟''

اس نے عرض کیا:'' جی ہاں۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت