فرماتے۔ شرح حدیث میں علامہ سندھی رحمہ اللہ تعالیٰ نے تحریر کیا ہے:
''إِنَّمَا أَنَا لَکُمْ مَثَلُ الْوَالِدِ):کَمَا یُعَلِّمُ الْوَالِدُ وَلَدَہٗ مَا یَحْتَاجُ إِلَیْہِ مُطْلَقًا، وَلَا یُبَالِيْ بِمَا یُسْتحْیٰ بِذِکْرِہٖ۔ فَھٰذَا تَمْھِیْدٌ لِمَا یُبَیِّنُ لَھُمْ مِنْ آدَابِ الْخَلَائِ إِذَا الْاِنْسَانُ کَثِیْرًا مَا یَسْتَحْیِيْ مِنْ ذِکْرِھَا لَا سِیمَا فِي مَجْلِسِ الْعُظَمَائِ''۔ [1]
'' (بلا شبہ میں تمہارے لیے والد کی مانند ہوں ) جیسے والد اپنے بچے کو ہر ضروری بات سکھاتا ہے اور اس سلسلے میں قابل شرم بات کی تمیز نہیں کرتا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو آداب قضائے حاجت بیان فرمائے، یہ بات اس کے لیے بمنزلہ تمہید تھی، کیونکہ انسان عام طور پر ایسی باتوں کا ذکر کرتے ہوئے اور خصوصًا بڑے لوگوں کی مجلس میں شرم محسوس کرتا ہے۔''
امام مسلم رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا:
'' قِیْلَ لَہٗ:'' قَدْ عَلَّمَکُمْ نَبِیُّکُمْ کُلَّ شَیْئٍ حَتَّی الْخِرَائَ ۃَ''۔
قَالَ:'' فَقَالَ:'' أَجَلْ، لَقَدْ نَھَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃَ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ، أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِالْیَمِیْنِ، أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَۃِ أَحْجَارٍ، أَوْ أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِرَجِیْعٍ أَوْ عَظْمٍ''۔ [2]
''ان سے [بطورِ طعن ] کہا گیا:کیا تمہارے نبی [ صلی اللہ علیہ وسلم ] نے تمہیں ہر بات سکھائی ہے،یہاں تک کہ قضائے حاجت بھی؟''
[2] صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب الاستطابۃ، رقم الحدیث ۵۷ (۲۶۲) ، ۱/۲۲۳۔