فهرس الكتاب

الصفحة 368 من 457

طلبہ کی صلاحیتوں کا ادراک

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرات صحابہ کی تعلیم و تربیت فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں علم و عمل کی دنیا میں قیادت و سیادت عطا فرمائی۔ لیکن وہ سب علم و فہم کے اعتبار سے ایک درجہ پر فائز نہ تھے اور نہ ہی علم و عمل کے متعدد گوشوں میں ان کا رسوخ اور کمال ایک جیسا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی صلاحیتوں اور ان کے باہمی فرق مراتب سے خوب آگاہ تھے اور ان میں سے ہر ایک کے ساتھ اس کی حیثیت اور مرتبہ کے مطابق معاملہ فرماتے۔ سیرت طیبہ میں اس سلسلے میں متعدد شواہد موجود ہیں،جن میں سے چار توفیق الٰہی سے ذیل میں پیش کیے جارہے ہیں:

۱۔ سات صحابہ کے امتیازی اوصاف کا بیان:

حضرات ائمہ احمد، ترمذی، ابن ماجہ، ابن حبان اور بیہقی رحمہم اللہ تعالیٰ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا:

'' قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم:'' أَرْحَمُ أُمَّتِيْ بِأُمَّتِيْ أَبُوْبَکْرٍ، وَأَشَدُّھُمْ فِيْ أَمْرِ اللّٰہِ عُمَرُ، وَأَصْدَقُھُمْ حَیَائً عُثْمَانُ بْنُ عَفّانَ، وَأَعْلَمُھُمْ بِالْحَلاَلِ وَالْحَرَامِ مَعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَأَفْرَضُھُمْ زَیْدُ ابْنُ ثَابِتٍ، وَأَقْرَؤُھُمْ أُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ، وَلِکُلِّ أُمَّۃٍ أَمِیْنٌ، وَأَمِیْنُ ھٰذِہٖ الْأُمَّۃِ أَبُوْ عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ رضی اللّٰه عنہم۔'' [1]

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت