فهرس الكتاب

الصفحة 375 من 457

طلبہ کے حالات کو پیش نظر رکھنا

دورانِ تعلیم ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے شاگردوں کے حالات اور کیفیات کو پیش نظر رکھنے کا شدید اہتمام فرماتے تھے۔ سیرت طیبہ کے متعدد گوشوں اور پہلوؤں سے یہ اہتمام واضح طور پر نظر آتا ہے۔ توفیق الٰہی سے ذیل میں اس بارے میں چند ایک زاویوں کا ذکر کیا جارہا ہے:

۱۔ نئے طلبہ سے ان کے بارے میں پوچھنا:

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نئے آنے والے اجنبی شاگردوں سے پوچھا کرتے کہ وہ کون ہیں ؟ اسی قسم کے واقعات میں سے ایک واقعہ امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ تعالیٰ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا:

'' إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ القَیْسِ لَمّا أَتَوُا النَّبِيَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم قَالَ:'' مَنِ الْقَوْمُ ــ أَوْ مَنِ الْوَفْدُ ــ؟ '' قَالُوْا:'' رَبِیْعَۃُ ''۔

قَالَ:'' مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ اَوْ بِالْوَفْدِ غَیْرَ خَزَایَا وَلاَ نَدَامَی…الحدیث۔'' [1]

'' جب عبدالقیس کا وفد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ نے دریافت فرمایا:'' کون سی قوم کے یہ لوگ ہیں۔ یا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:یہ وفد کہاں کا ہے؟''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت