[مسجد میں علم و فتوی کے متعلق باب]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالیٰ عنوان ِ باب کی شر ح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
''أَيْ إِلْقَائُ الْعِلْمِ وَالْفُتْیَا فِي الْمَسْجِدِ، وَأشَارَ بِھٰذَہِ التَّرْجَمَۃِ الرَّدَّ عَلَی مَنْ تَوَقَّفَ فِیْہِ لِمَا یَقَعُ مِنَ الْمُبَاحَثَۃِ مِنْ رَفْعِ الصَّوْتِ، فَنبَّہَ عَلَی الْجَوَازِ۔'' [1]
'' یعنی مسجد میں تعلیم اور فتوی ( دینا جائر ہے) انہوں نے اس عنوان کے ساتھ ان لوگوں کے رد کی طرف اشارہ کیا ہے جو بحث و تمحیص کے دوران آواز کے اونچا ہونے کے خدشہ کے پیش نظر اس کے جواز میں تردد کرتے ہیں اور اس بات کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے کہ یہ جائز ہے۔''
امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا:
''جَائَ تْ امْرَأَۃٌ إِلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم فَقَالَتْ:''یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! ذَھَبَ الرِّجَالُ بَحَدِیْثِکَ، فَاجْعَلْ لَنَا مِنْ نَفْسِکَ یَوْمًا نَأتِیْکَ فِیْہِ تُعَلِّمُنَا مِمَّا عَلَّمَکَ اللّٰہ۔''
فَقَالَ:''اِجْتَمِعْنَ فِيْ یَوْمِ کَذَا وَکَذَا فِي مَکَانِ کذَا وَکَذَا۔''
فَاجْتَمَعْنَ، فَأَتَاھُنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم، فَعَلَّمَھُنَّ مِمَّا عَلَّمَہُ اللّٰہُ۔'' [2]
''ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا:
[2] صحیح البخاري،کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب تعلیم النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم أمتہ من الرجال والنسآء مما علّمہ اللّٰه لیس برأي ولا تمثیل، جزء من رقم الحدیث ۷۳۱۰،۱۳/۲۹۲۔