فهرس الكتاب

الصفحة 70 من 457

مختلف اقسام کے لوگوں کو تعلیم

ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فیض تعلیم کو کسی مخصوص گروہ یا جماعت میں محصور نہیں فرمایا تھا،بلکہ تا حد استطاعت زیادہ سے زیادہ اقسام کے لوگوں کو تعلیم دیتے تھے۔ اس بارے میں سیرتِ طیبہ سے چند ایک شواہد ذیل میں پیش کیے جا رہے ہیں:

۱۔اہل خانہ کو تعلیم:

امام مسلم رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے کہ:

'' أَنَّ النَّبِیَّ خَرَجَ مِنْ عِنْدِھَا بُکْرَۃً حِیْنَ صَلَّی الصُّبْحَ، وَھِيَ فِيْ مَسْجِدِھَا، ثُمَّ رَجَعَ بَعْدَ أَنْ أَضْحٰی، وھِيَ جَالِسَۃٌ، فَقَالَ:''مَا زِلْتِ عَلَی الْحَالِ الَّّتِيْ فَارْقتُکِ عَلَیْھَا۔؟''

قَالَتْ:'' نَعَمْ۔''

قَالَ:'' لَقَدْ قُلْتُ بَعْدَکِ أَرْبَعَ کَلِمَاتٍ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، لَوْ وُزِنَتْ بِمَاقُلْتِ مُنْذُ الیوم لَوزَنَتْھُنَّ:سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ عَدَدَ خَلقِْہِ وَرِضَا نَفْسِہِ وَزِنَۃَ عَرْشِہِ وَمِدَادَ کَلِمَاتِہِ۔'' [1]

''بلاشبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں سے [نماز] صبح پڑھ کر تشریف لے گئے اور وہ اس وقت اپنی جائے نماز میں تھیں۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کے وقت تشریف لائے، تو وہ [وہیں ] بیٹھی تھیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:''میں نے جس حالت میں تمہیں چھوڑا تھا، تا حال

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت