فهرس الكتاب

الصفحة 281 من 457

نا معلوم بات کے جواب میں خاموشی

بلا شک و شبہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمام مخلوق میں سے سب سے بلند و بالا، اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ معزز و محترم اورعلم و تقویٰ میں سب سے اونچے مقام پر فائز تھے، لیکن اس سب کچھ کے باوجود، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی ایسی بات کے متعلق دریافت کیا جاتا،جس کا آپ کو علم نہ ہوتا،تو آپ یا تو خاموش رہتے یا فرما دیتے:'' مجھے علم نہیں۔''

توفیق الٰہی سے اس بارے میں ذیل میں چار شواہد پیش کیے جا رہے ہیں:

۱۔ روح کے متعلق یہودیوں کے سوال پر خاموشی:

امام بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ:

'' بَیْنَا أَنَا مَعَ النَّبِيِّ صلی اللّٰه علیہ وسلم فِيْ حَرْثٍ۔وَھُوَ مُتَّکِیٌٔ عَلَی عَسِیْبٍ۔ إِذْ مَرَّ الْیَھُوْدُ، فَقَالَ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ:''سَلُوْہُ عَنِ الرُّوْحِ''، فَقَالَ:'' مَا رَابَکُمْ إِلَیْہِ''۔

وَقَالَ بَعْضُھُمْ:'' لَا یَسْتَقْبِلُکُمْ بِشَیْئٍ تَکْرَھُوَنَہٗ''۔

فَقَالُوْا:'' سَلُوْہُ''۔

فَسَأَلُوْہُ عَنِ الرُّوْحِ، فَأَمْسَکَ النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْھِمْ شَیْئًا، فَعَلِمْتُ أَ نَّہٗ یُوْحٰی إِلَیْہِ، فَقُمْتُ مَقَامِيْ۔

فَلَمَّا نَزَلَ الْوَحْيُ قَالَ: {وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّیْ وَمَآ أُوْتِیْتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلاَّ قَلِیْلًا} [1] ، [2]

[2] صحیح البخاري، کتاب التفسیر،باب {وَیَسْأَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْحِ} ،رقم الحدیث۴۷۲۱، ۸/۴۰۱۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت