فهرس الكتاب

الصفحة 183 من 457

۳۔ لمبی اُمیدوں اور قرب موت کا لکڑیاں گاڑ کر بیان:

امام احمد اور امام بغوی رحمہما اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ:

'' أَنَّ النَّبِّيَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم غَرزَ عُودًا بَیْنَ یَدَیْہِ، وَآخَرَ إِلیٰ جَنْبِہٖ، وَآخَرَ أَبْعَدَ، فَقَالَ:'' أَ تَدْرُوْنَ مَا ھٰذا؟''۔

قَالُوْا:'' اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہ أَعْلَمُ''۔

قَالَ:'' ھٰذَا الْإِنْسَانُ، وَھٰذا الْأَجَلُ۔أَراہُ قَالَ۔:''وَھٰذَا الْأَمَلُ، فَیَتَعَاطَی الْأَمَلُ، فَلَحِقَہُ الْاَجَلُ دُوْنَ الْأَمَلِ''۔ [1]

''نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھڑی اپنے سامنے گاڑی، دوسری اس کے پہلو میں اور تیسری زیاد ہ دور۔ پھر فرمایا:'' کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟

انہوں نے عرض کیا:'' اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جانتے ہیں۔''

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:'' یہ انسان ہے اور یہ موت ہے۔ میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [2] اور یہ آرزو ہے اور وہ آرزو کے پانے کی کوشش میں ہے۔ لیکن آرزو [ کے حصول ] سے پہلے ہی موت اس کوآ پہنچتی ہے۔''

[2] یہ الفاظ راوی حدیث نے اپنے تردد کے اظہار کی خاطر ذکر کیے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت