فهرس الكتاب

الصفحة 84 من 457

میسر آنے والے مواقع سے تعلیم میں استفادہ

ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ میں یہ بات نمایاں ہے کہ آپ میسر آنے والے مواقع کو تعلیمی مقاصد کے لیے انتہائی عمدگی سے استعمال فرمایا کرتے تھے۔ توفیق الٰہی سے اس بارے میں چند ایک شواہد ذیل میں پیش کیے جا رہے ہیں:

۱۔چودھویں کا چاند دیکھنے پر دیدار الٰہی کا بیان:

امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ تعالیٰ نے حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا:

'' کُنَّا جُلُوْسًا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم فَنَظَرَ إِلَی الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ فَقَالَ:''أَمَا إِنَّکُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّکُمْ کَمَا تَرَوْنَ ھٰذا الْقَمَرَ، لَا تُضَامُّوْنَ فِيْ رُؤْیَتِہٖ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لاَّ تُغْلَبُوْا عَلَی صَلَاۃٍ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِھَا فَافْعَلُوْا یَعْنِي الْعَصْرَ وَالْفَجْرَ۔'' ثُمَّ قَرَأَ جَرِیْرٌ رضی اللّٰه عنہ:وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِھَا [1] }۔'' [2]

''ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے چودھویں رات کے چاند کو دیکھا،تو فرمایا:'' یقینا تم اپنے رب کو [ آخرت میں ]

[2] متفق علیہ:صحیح البخاري، کتاب مواقیت الصلاۃ، باب فضل صلاۃ العصر، رقم الحدیث۵۵۴،۲/۳۳؛ وصحیح مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ، باب صلاتي الصبح والعصر والمحافظۃ علیھما، رقم الحدیث۲۱۱ (۶۳۳) ،۱/۴۳۹۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت