فهرس الكتاب

الصفحة 306 من 457

نے خفگی کی بجائے آیت کریمہ کا صحیح معنی بیان فرما کر ان کے اشکال کو رفع فرما دیا۔

۵۔ خواتین کے متعلق باتوں کے بارے میں سوال جواب:

امام بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا:

'' خَرََجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم فِيْ أَضْحَی أَوْ فِطْرٍ إِلَی الْمُصَلَّي، فَمَرَّ عَلَی النِّسَآئِ فَقَالَ:'' یَا مَعْشَرَ النِّسَآئِ! تَصَدَّقْنَ، فَإِنِّيْ أُرِیْتُکُنَّ أَکْثَرَ أَھْلَ النَّارِ''۔

فَقُلْنَ:'' وَبِمَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟''۔

قَالَ:'' تُکْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَکْفُرْنَ الْعَِشِیْرَ۔ مَا رَأَیْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِیْنٍ أَذْھَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاکُنَّ''۔

قُلْنَ:'' وَمَا نُقْصَانُ دِیْنِنَا وَعَقْلِنَا یَا رَسُْولَ اللّٰہ؟''۔

قَالَ:''أَلَیْسَ شَھَادَۃُ الْمَرْأَۃِ مِثْلَ نِصْفِ شَھَادَۃِ الرَّجُلِ؟''۔

قُلْنَ:'' بَلیٰ ''۔

قَالَ:'' فَذٰلِکَ مِنْ نُقْصَانِ عَقْلِھَا۔ أَلَیْسَ إِذََا حَاضَتْ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ؟''۔

قُلْنَ:'' بَلیٰ ''۔

قَالَ:'' فَذٰلِکَ مِنْ نُقْصَانِ دِیْنِھَا''۔ [1]

''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم [عید] الاضحی یا [عید] الفظر میں عید گاہ تشریف لے گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس سے گزرے تو فرمایا:''اے عورتوں

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت