نے خفگی کی بجائے آیت کریمہ کا صحیح معنی بیان فرما کر ان کے اشکال کو رفع فرما دیا۔
امام بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا:
'' خَرََجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم فِيْ أَضْحَی أَوْ فِطْرٍ إِلَی الْمُصَلَّي، فَمَرَّ عَلَی النِّسَآئِ فَقَالَ:'' یَا مَعْشَرَ النِّسَآئِ! تَصَدَّقْنَ، فَإِنِّيْ أُرِیْتُکُنَّ أَکْثَرَ أَھْلَ النَّارِ''۔
فَقُلْنَ:'' وَبِمَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟''۔
قَالَ:'' تُکْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَکْفُرْنَ الْعَِشِیْرَ۔ مَا رَأَیْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِیْنٍ أَذْھَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاکُنَّ''۔
قُلْنَ:'' وَمَا نُقْصَانُ دِیْنِنَا وَعَقْلِنَا یَا رَسُْولَ اللّٰہ؟''۔
قَالَ:''أَلَیْسَ شَھَادَۃُ الْمَرْأَۃِ مِثْلَ نِصْفِ شَھَادَۃِ الرَّجُلِ؟''۔
قُلْنَ:'' بَلیٰ ''۔
قَالَ:'' فَذٰلِکَ مِنْ نُقْصَانِ عَقْلِھَا۔ أَلَیْسَ إِذََا حَاضَتْ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ؟''۔
قُلْنَ:'' بَلیٰ ''۔
قَالَ:'' فَذٰلِکَ مِنْ نُقْصَانِ دِیْنِھَا''۔ [1]
''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم [عید] الاضحی یا [عید] الفظر میں عید گاہ تشریف لے گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس سے گزرے تو فرمایا:''اے عورتوں