فهرس الكتاب

الصفحة 91 من 457

طالب علم کا خیر مقدم

ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ نے طلب علم کی غرض سے آنے والوں کا حسنِ استقبال کرتے ہوئے انہیں خوش آمدید کہا۔ توفیقِ الٰہی سے اس سلسلے میں تین مثالیں پیش کی جا رہی ہیں:

۱۔صفوان مرادی رضی اللہ عنہ کا خیر مقدم:

امام طبرانی رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت صفوان بن عسال مرادي رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا:

'' أَ تَیْتُ النَّبِيِّ صلی اللّٰه علیہ وسلم وَھُوَ فِي الْمَسْجِدِ مُتَّکِیٌٔ عَلَی بُردٍ لَہٗ أَحْمَرَ، فَقُلْتُ لَہٗ:'' یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم ! إِنِّیْ جِئْتُ أَطْلُبُ الْعِلْمَ''۔ فَقَالَ:'' مَرْحَبًا بِطَالِبِ الْعِلْمِ! إِنَّ طَالِبَ الْعِلْمِ لَتَحُفُّہُ الْمَلَائِکَۃُ بِأَجْنِحَتِھَا، ثُمَّ یَرْکَبُ بَعْضُھُمْ بَعْضًا، حَتّٰی یَبْلُغُوا السَّمَآئَ الدُّنْیَا مِنْ مُحَبَّتِھِمْ لِمَا یَطْلُبُ''۔ [1]

''میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس وقت آپ اپنی سرخ چادر پر ٹیک لگائے مسجد میں تشریف فرما تھے، تو میں نے عرض کیا:''میں طلب

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت