فهرس الكتاب

الصفحة 406 من 457

'' اس کا معنی بات کی عظمت کو ظاہر کرنا اور اس پر اظہارِ خوشی کرنا۔''

علاوہ ازیں حافظ رحمہ اللہ تعالیٰ نے فوائد حدیث بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:

'' صَوَّبَ رَأْیَہُ، وَشَکَرَ عَنْ رَبِّہِ فِعْلَہُ، وَکَنَّی عَنْ رِضَاہُ بِذٰلِکَ بِقَوْلِ:''بَخ'' [1]

'' آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس اقدام کو درست قرار دیا۔ ان کے رب تعالیٰ کی طرف سے ان کے عمل کی قدر دانی کا اظہار فرمایااور اپنی خوشنودی کے متعلق [آفریں ] فرماکر اشارہ فرمایا۔''

خلاصۂ گفتگو یہ ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لائق شاگردوں کی تکریم و توقیر فرماتے۔ ان کے اچھے اقوال و افعال کی بنا پر ان کی تعریف کرکے ان کے حوصلوں کو مزید بڑھاتے تھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت