فهرس الكتاب

الصفحة 320 من 457

''اس میں یہ بات ہے کہ جب شاگرد اپنے استاد کے پاس [کسی کو ] ناپسندیدہ کام [کرتے ہوئے ] دیکھے تو ا س کے ٹوکنے میں جلدی کرے اور اس میں استاد کی شان میں گستاخی نہیں،بلکہ یہ تو اس کے ادب و احترام اور اس کے مقام و مرتبہ کی پاسداری کی بات ہے۔

اور اس سے استاد کی موجودگی میں اس کے طریقے کے مطابق شاگرد کا فتویٰ دینے کا جواز بھی معلوم ہوتا ہے۔''

تنبیہ:

اس حدیث شریف میں گانے بجانے کے جواز پر استدلال قطعًا درست نہیں۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالیٰ نے تحریر کیا ہے:

'' وَاسْتَدَلَّ جَمَاعَۃٌ مِّنَ الصُّوْفِیَّۃِ بِحَدِیْثِ الْبَابِ عَلَی إِبَاحَۃِ الْغِنَائِ وَسَمَاعِہٖ بِآلَۃٍ وَبِغَیْرِ آلَۃٍ، وَیَکْفِي فِي رَدِّ ذٰلِکَ تَصْرِیْحُ عَائِشَۃَ رضی اللّٰه عنہا:'' وَلَیْسَتَا بِمُغَنِّیَتَیْنِ''۔ [1]

''صوفیوں کے ایک گروہ نے [اس] باب کی حدیث سے ساز اور بغیر ساز کے گانے اور اس کے سننے کے جواز پر استدلال کیا ہے۔ ان کی تردید کے لیے عائشہ رضی اللہ عنہا کاصراحت سے فرمانا: [وہ دونوں بچیاں ] گانے والیاں نہ تھیں ] بہت کافی ہے۔''

اس کے بعد حافظ نے علامہ قرطبی رحمہما اللہ تعالیٰ کا قول نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا ہے:

'' قَوْلُھَا:'' لَیْسَتَا بِمُغَنِّیَتَیْنَ'' أَيْ لَیْسَتَا مِمَّنْ یَعْرِفُ الْغِنَائَ کَمَا یَعْرِفُہُ الْمُغَنِّیَاتُ الْمَعْرُوفَاتُ بِذٰلِکَ، وَھٰذَا مِنْھَا تَحَرُّزٌ عَنِ الْغِنَائِ الْمُعْتَادِ عِنْدَ الْمُشتَھِرِیْنَ بِہٖ، وَھُوَ الَّذِيْ یُحَرِّکُ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت