فهرس الكتاب

الصفحة 141 من 457

''جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا تو میں نے عرض کیا:'' آپ مجھے مبعوث [ تو ] فرما رہے اور میں نو عمر ہوں، اور مجھے [لوگوں کے درمیان] فیصلے کرنے میں کچھ تجربہ نہیں۔''

انہوں نے بیان کیا:'' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر ضرب لگائی، اور فرمایا:'' جاؤ، اللہ تعالیٰ تمہاری زبان کو ثبات اور تمہارے دل کو ہدایت عطا فرمائے گا۔''

انہوں نے بیان کیا:'' پس مجھے [ اس کے بعد] دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے نے [ کبھی بھی ] عاجز نہیں کیا۔'' [ یعنی میں ہر پیش ہونے والے قضیہ میں آسانی سے فیصلہ کر لیتا]

ب: امام احمد رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا:

'' مَرَّبِيْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم، وَأَنَا وَجِعٌ، وَأَنَا أَقُولُ:'' اَللّٰھُمَّ إِنْ کَانَ أَجلِيْ قَدْ حَضَرَ فَأَرِحْنِيْ، وَإِنْ کَانَ آجِلًا فَارْفَعْنِيْ، وَإِنْ کَانَ بَلَائً فَصَبِّرْنِيْ۔''

قَالَ:'' مَا قُلْتَ؟''

فَأَعَدْتُّ عَلَیْہِ، فَضَرَبَنِيْ بِرِحْلِہٖ، فَقَالَ:'' مَاقُلْتَ؟''۔

فَأَعَدَتُ عَلَیْہِ، فَقَالَ:'' اَللّٰھُمَّ عَافِہٖ أَواشْفِہٖ''۔

قَالَ:'' فَمَا اشْتَکَیْتُ ذَلِکَ الْوَجَعَ بَعْدُ''۔ [1]

'' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور میں مبتلائے درد تھا، اورمیں کہہ رہا تھا:'' اے میرے اللہ! اگر میرا وقت اجل آ چکا ہے،تو مجھے راحت دیجیے، [ یعنی موت دیجیے] ، اور اگر ابھی اس میں مہلت ہے،تو مجھے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت