فهرس الكتاب

الصفحة 122 من 457

قَالَ:فَقَالَ:'' یَا عَبَّاسُ! یَا عَمَّ رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم ! سَلِ اللّٰہَ الْعَافِیَۃَ فِي الدُّنْیَاوَالْآخِرَۃِ ''۔ [1]

' ' میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا:'' یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے کوئی چیز بتلائیے کہ میں اس کے ساتھ دعا کروں ( یعنی اللہ تعالیٰ سے طلب کروں ) ''

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:'' اللہ تعالیٰ سے معافی اور عافیت کا سوال کرو۔''

'' انہوں نے بیان کیا:'' پھر میں نے دوبارہ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا:'' مجھے کوئی چیز بتلائیے کہ اس کے ساتھ دعا کروں۔''

انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:'' اے عباس! اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ! اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت میں عافیت کا سوال کرو۔''

اس حدیث شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے محترم چچا کو دوران تعلیم دو دفعہ ندا دی۔ ایک دفعہ:''یا عباس '' اور دوسری دفعہ:'' یا عم رسول صلی اللہ علیہ وسلم !'' کے الفاظ مبارکہ سے۔

۲۔ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کوندا:

امام مسلم رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا:

'' قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم:'' یَا أَبَا الْمُنْذِرِ! أَتَدْرِيْ أَيُّ آیَۃٍ مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ مَعَکَ أَعْظَمُ؟ ''۔

قَالَ:قلْتُ:'' اَللّٰہُ وَرَسُولُہٗ أَعْلَمُ ''۔

قَالَ:'' یَا أَبَا الْمُنْذِرِ! أَتَدْرِيْ أَيُّ آیَۃٍ مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ مَعَکَ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت