فهرس الكتاب

الصفحة 81 من 320

اے ابو طلحہ ! کیا آپ کو [اس بات کا] علم نہیں کہ جن معبودوں کی تم پرستش کر رہے ہو،انہیں فلاں قبیلے کے بڑھئی غلام نے چھیل کر بنایا ہے ؟ اور اگر آپ ان میں آگ لگاؤ تو وہ جل کر راکھ ہو جائیں گے۔''

راوی نے بیان کیا:''وہ [ابو طلحہ] ان کے ہاں سے چلے گئے،لیکن بات ان کے دل میں اتر چکی تھی۔''

راوی نے بیان کیا:'' [اس کے بعد] جب بھی وہ ان [ام سلیم رضی اللہ عنہا] کے ہاں آتے،تو وہ یہی بات ان کے سامنے دہراتیں۔''

ایک دوسری روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا:

(( یَا أَبَا طَلْحَۃَ ! أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنَّ إِلٰہَکَ الَّذِيْ تَعْبُدُ إِنَّمَا ہُوَ شَجَرَۃٌ تَنْبُتُ مِنَ الْأَرْضِ،وَإِنَّمَا نَجَّرَہَا حَبَشِيُّ بَنِيْ فُلاَن؟۔''

قَالَ:''بَلٰی۔''

قَالَتْ:''أَمَا تَسْتَحْیِيْ تَسْجُدُ لِخَشْبَۃٍ تَنْبُتُ مِنَ الْاَرْضِ نَجَّرَہَا حَبَشِيُّ بَنِيْفُلاَنٍ؟۔''

قَالَتْ:''فَہَلْ لَکَ أَنْ تَشْہَدَ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ،وَأُزَوِّجُکَ نَفْسِيْ لاَ أُرِیْدَ مِنْکَ صَدَاقًا غَیْرَہُ؟۔''

قَالَ لَہَا:''دَعِیْنِي حَتَّی أَنْظُرَ۔''

قَالَتْ:''فَذَہَبَ،فَنَظَرَ،ثُمَّ جَائَ فَقَالَ:''أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ (صلی اللّٰه علیہ وسلم) [1]

''اے ابو طلحہ ! کیا تم جانتے نہیں کہ جس معبود کی تم پوجا کرتے ہو وہ تو زمین میں اگنے والا ایک درخت ہے،اور اس کو فلاں قبیلے کے حبشی غلام نے خراشا

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت