حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کے ہاں آ کر ان پر الزامات تراشنے شروع کیے۔حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے اس کے الزامات کی تردید کی،اور اس پر واضح کیا کہ وہ جھوٹ بک رہا ہے۔
امام حاکم رحمہ اللہ نے ابو صدیق رحمہ اللہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ:
(( لَمَا ظَفَرَ الْحَجَّاجُ عَلَی ابْنِ الزُّبَیْرِ رضی اللّٰه عنہ،فَقَتَلَہُ وَمَثَّلَ بِہِ،ثُمَّ دَخَلَ عَلَی أُمِّ عَبْدِ اللّٰهِ،وَہِيَ أَسْمَائُ بِنْتُ أَبِيْ بَکْرٍ رضی اللّٰه عنہما،فَقَالَتْ:''کَیْفَ تَسْتَأْذِنَ عَلَيَّ،وَقَدْ قَتَلْتَ ابْنِيْ؟''
فَقَالَ:''إِنَّ ابْنَکَ أَلْحَدَ فِيْ حَرَمِ اللّٰهِ،فَقَتَلْتُہُ مُلْحِدًا عَاصِیًا،حَتَّی أَذَاقَہُ اللّٰهُ عَذَابًا أَلِیْمًا،وَفَعَلَ بِہِ وَفَعَلَ۔''
فَقَالَتْ:''کَذَبْتَ یَا عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّ الْمُسْلِمِیْنَ ! وَاللّٰهِ ! لَقَدْ قَتَلْتَہُ صَوَّامًا قَوَّامًا بَرًّا بِوَالِدَیْہِ حَافِظًا لِہٰذَا الدِّیْنِ۔وَلَئِنْ أَفْسَدَتَّ عَلَیْہِ دُنْیَاہُ لَقَدْ أَفْسَدَ عَلَیْکَ آخِرَتَکَ۔وَلَقَدْ حَدَّثَنَا رَسُوْلَ اللّٰهِ صلی اللّٰه علیہ وسلم:أَنَّہُ یَخْرُجُ مِنْ ثَقِیْفٍ کَذَّابَانِ،اَلْآخَرُ مِنْہُمَا أَشَرُّ مِنَ الْأَوَّلِ،وَہُوَ الْمُبِیْرُ،وَمَا ہُوَ إِلاَّ أَنْتَ یَا حَجَّاجُ !۔'' )) [1]
امام احمد نے بھی اسی معنی کی روایت نقل کی ہے ۔ (ملاحظہ ہو: المسند ۶ /۳۶۱ ؛ و ۶/۳۵۲) ۔
اس واقعے کی اصل صحیح مسلم میں بھی موجود ہے ۔ (ملاحظہ ہو: صحیح مسلم ، کتاب فضائل الصحابۃ ، باب ذکر کذَّاب ثقیف ومبیرہا ، رقم الحدیث ۲۲۹ ، ۴/۱۹۷۱ - ۱۹۷۲) ۔