ہوئے۔وہ مذمت کرتے ہوئے دنیا کے تذکرے کرنے لگے،اس پر رابعہ رحمہ اللہ نے ان سے فرمایا:''یقینا میں دیکھ رہی ہوں کہ پوری کی پوری دنیا تمہارے دلوں میں گھسی ہوئی ہے۔''
انہوں نے عرض کی:''آپ کو ہمارے بارے میں یہ وہم کہاں سے ہوا ہے؟''
انہوں نے فرمایا:''تم نے اس چیز کو دیکھا جو کہ تمہارے دلوں کے سب سے زیادہ قریب ہے،اور اسی کے متعلق گفتگو شروع کر دی۔''
حضرت رابعہ رحمہ اللہ نے اس شخص پر بھی تنقید فرمائی جس نے اپنے وعظ میں دنیا کا تذکرہ چھیڑا۔
دلیل:
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے خالد بن خداش رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا:
(( سَمِعَتْ رَابِعَۃُ صَالِحًا الْمُرِّيُّ یَذْکُرُ الدُّنْیَا فِيْ قَصَصِہِ،فَنَادَتْہُ:''یَا صَالِحُ ! مَنْ أَحَبَّ شَیْئًا أَکْثَرَ مِنْ ذِکْرِہِ۔'' ) ) [1]
''رابعہ رحمہ اللہ نے صالح مری کو اپنے وعظ کے دوران ذکر ِ دنیا کرتے سنا،تو انہوں نے اس کو آواز دی:''اے صالح ! جو شخص کسی چیز کو پسند کرتا ہے اس کا تذکرہ زیادہ کرتا ہے۔''