زیاد بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ [1] نے بیت اللہ کی طرف قربانی ارسال کی،اور عام لباس اتار کر حالت احرام میں داخل ہو گیا۔اس بات کی اطلاع پانے پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس پر تنقید کی۔
دلیل:
امام ابو یعلی رحمہ اللہ نے عروہ رحمہ اللہ سے روایت نقل کی ہے۔اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ انہوں نے بیان کیا کہ:
(( إِنْ کُنْتُ لَأَفْتِلُ قَلاَئِدَ بُدْنِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صلی اللّٰه علیہ وسلم ثُمَّ یَبْعَثُ بِالْہَدْيِ،وَہُوَ مُقِیْمٌ عِنْدَنَا،لاَ یَجْتَنِبُ شَیْئًا مِمَّا یَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ۔
بَلَغَنَا أَنَّ زِیَادًا بَعَثَ بِہَدْيٍ وَتَجَرَّدَ،فَقَالَتْ:''وَہَلْ کَانَتْ لَہُ کَعْبَۃٌ یَطُوْفُ بِہَا حِیْنَ لَبِسَ الثِّیَابَ،فَإِنَّا لاَ نَعْلَمُ أَحَدًا تَحْرُمُ عَلَیْہِ الثِّیَابُ،ثُمَّ تَحِلُّ لَہُ،حَتَّی یَطُوْفُبِالْکَعْبَۃِ۔ )) [2]
''یقینا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کے اونٹوں کے قلادوں کو بٹا کرتی
[2] مسند أبي یعلی ، مسند عائشہ رضی اللّٰه عنہا، رقم الحدیث ۳۸ (۴۳۹۴) ، ۷/۳۵۷ - ۳۵۸۔ کتاب کے محقق نے [اس کی اسناد کو صحیح] قرار دیا ہے ۔ (ملاحظہ ہو: ہامش المسند ۷/۳۵۸) ۔