فهرس الكتاب

الصفحة 256 من 320

(۱)ہدی بھیجنے پر زیاد کے عام لباس اتارنے پر عائشہ رضی اللہ عنہا کا احتساب

زیاد بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ [1] نے بیت اللہ کی طرف قربانی ارسال کی،اور عام لباس اتار کر حالت احرام میں داخل ہو گیا۔اس بات کی اطلاع پانے پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس پر تنقید کی۔

دلیل:

امام ابو یعلی رحمہ اللہ نے عروہ رحمہ اللہ سے روایت نقل کی ہے۔اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ انہوں نے بیان کیا کہ:

(( إِنْ کُنْتُ لَأَفْتِلُ قَلاَئِدَ بُدْنِ رَسُوْلِ اللّٰهِ صلی اللّٰه علیہ وسلم ثُمَّ یَبْعَثُ بِالْہَدْيِ،وَہُوَ مُقِیْمٌ عِنْدَنَا،لاَ یَجْتَنِبُ شَیْئًا مِمَّا یَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ۔

بَلَغَنَا أَنَّ زِیَادًا بَعَثَ بِہَدْيٍ وَتَجَرَّدَ،فَقَالَتْ:''وَہَلْ کَانَتْ لَہُ کَعْبَۃٌ یَطُوْفُ بِہَا حِیْنَ لَبِسَ الثِّیَابَ،فَإِنَّا لاَ نَعْلَمُ أَحَدًا تَحْرُمُ عَلَیْہِ الثِّیَابُ،ثُمَّ تَحِلُّ لَہُ،حَتَّی یَطُوْفُبِالْکَعْبَۃِ۔ )) [2]

''یقینا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کے اونٹوں کے قلادوں کو بٹا کرتی

[2] مسند أبي یعلی ، مسند عائشہ رضی اللّٰه عنہا، رقم الحدیث ۳۸ (۴۳۹۴) ، ۷/۳۵۷ - ۳۵۸۔ کتاب کے محقق نے [اس کی اسناد کو صحیح] قرار دیا ہے ۔ (ملاحظہ ہو: ہامش المسند ۷/۳۵۸) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت