فهرس الكتاب

الصفحة 133 من 320

(۲۵)میمونہ رضی اللہ عنہا کا شراب کی بدبو والے قریبی کو دھمکی دینا

حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کا ایک رشتے دار ان کے ہاں آیا۔اس کے منہ سے شراب کی بدبو آ رہی تھی۔انہوں نے اس کو حکم دیا کہ وہ شرعی حد کے لیے اپنے آپ کو متعلقہ حکام کے روبرو پیش کرے،وگرنہ وہ اس سے قطع تعلق کر دیں گی۔

دلیل:

امام ابن سعد رحمہ اللہ نے یزید بن اصم رحمہ اللہ سے روایت نقل کی ہے کہ:

(( أَنَّ ذَا قَرَابَۃٍ لِمَیْمُوْنَۃَ رضی اللّٰه عنہا دَخَلَ عَلَیْہَا،فَوَجَدَتْ مِنْہُ رِیْحَ شَرَابٍ،فَقَالَتْ:''لَئِنْ لَمْ تَخْرُجْ إِلَی الْمُسْلِمِیْنَ فَیَجْلِدُوْکَ…أَوْ قَالَتْ:یُطَہِّرُوْکَ [1] …لاَ تَدْخُلْ عَلَيَّ بَیْتِيْ أَبَدًا۔'' ) ) [2]

''میمونہ رضی اللہ عنہاکا ایک قرابت دار ان کے پاس آیا۔انہوں نے اس کے ہاں [یعنی اس کے منہ میں] بدبو کو پایا،تو فرمایا:''اگر تو مسلمانوں کے پاس نہ گیا،تاکہ وہ تجھے کوڑیں ماریں یا انہوں نے فرمایا:وہ تجھے پاک نہ کریں۔تو تو کبھی بھی میرے گھر میں داخل نہ ہونا۔''

قصے سے مستفاد باتیں:

1 حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے اپنے قریبی شخص کا احتساب کرتے ہوئے [دھمکی] کا درجہ

[2] الطبقات الکبری ۸/۱۳۹۔ حافظ ذہبی ؒ نے بھی اس واقعے کو ذکر کیا ہے ۔ (ملاحظہ ہو: سیر أعلام النبلاء ۲/۲۴۴) ؛ اور شیخ شعیب ارناؤوط نے اس کی [سند کو حسن] قرار دیا ہے ۔ (ملاحظہ ہو: ہامش سیر أعلام النبلاء ۲/۲۴۴) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت