(( فِیْہِ النَّہْيُ عَنِ الضِّحْکِ عَنْ مِّثْلِ ہٰذَا إِلاَّ أَنْ یَحْصُلَ غَلبُہُ لاَ یُمْکِنُ دَفْعُہُ،وَأَمَّا تَعَمَّدُہُ فَمَذْمُوْمٌ لِأَنَّ فِیْہِ إِشْمَاتًا بِالْمُسْلِمٍ وَکَسْرًا لِقَلْبِہِ۔ ) ) [1]
''اس [حدیث] سے اس قسم کی ہنسی کی ممانعت ثابت ہوتی ہے،ہاں اگر کوئی شخص اس طرح مغلوب ہو جائے کہ ہنسی کا روکنا اس کے قابو میں نہ رہے [تو پھر معاملہ مختلف ہے] ،لیکن قصدًا ایسے کرنا قابل مذمت ہے،کیونکہ اس [طرز عمل] میں مسلمان کی مصیبت پر اظہار خوشی اور اس کی دل شکنی ہے۔''
2 حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے احتساب کی تایید میں فرمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیش کیا۔
3 مسلمان کی مصیبت اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے اجر وثواب کا سبب بن جاتی ہے۔
حضرت عروہ رحمہ اللہ نے اپنی خالہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان کے موقع پر حضرت حسان رضی اللہ عنہ کی گفتگو کے پیش نظر انہیں برا بھلا کہا۔حضرت عائشہ نے انہیں اس سے روک دیا۔
دلیل:
امام مسلم رحمہ اللہ نے عروہ رحمہ اللہ سے روایت نقل کی ہے کہ: