فهرس الكتاب

الصفحة 59 من 320

(( تُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ لِأَرْبَعٍ:لِمَالِہَا،وَلِحَسَبِہَا،وَجَمَالِہَا وَلِدِیْنِہَا،فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّیْنِ۔تَرِبَتْ یَدَاکَ۔ [1] ) ) [2]

''عورت سے چار اسباب کی بنا پر نکاح کیا جاتا ہے:اس کے مال کے سبب،اس کے حسب [خاندان] کی وجہ سے،اس کی خوبصورتی کی بنا پر،اس کے دین کی بدولت،تو دین والی عورت کو حاصل کر،تیرے ہاتھ غبار آلود ہو جائیں۔''

(۴)بعض بیویوں کا شوہروں پر عظیم اثر

کچھ خواتین نیکی کے کام ترک کرنے اور غلط کاموں کے ارتکاب کے لیے یہ عذر پیش کرتی ہیں کہ وہ ایسا طرز عمل مردوں کے زیر اثر ہونے کی بنا پر اختیار کرنے پر مجبور ہیں،کیونکہ وہ ان کے مقابلے میں بے دست وپا ہوتی ہیں۔بلاشک وشبہ اللہ تعالیٰ نے مردوں کو خواتین پر حکمرانی عطا فرمائی ہے،لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس حقیقت کو تسلیم کیے بغیر بھی چارہ نہیں کہ بعض خواتین کا اپنے شوہروں پر بہت قوی اور گہرا اثر ہوتا ہے۔غوروفکر سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اندرون خانہ کئی ایک معاملات مردوں کی

[2] متفق علیہ: ملاحظہ ہو: صحیح البخاري ، کتاب النکاح ، باب الأکفاء في الدین ، رقم الحدیث ۵۰۹۰، ۹/۱۳۲ ؛ وصحیح مسلم ، کتاب الرضاع ، باب استحباب نکاح ذات الدین ، رقم الحدیث ۵۳ (۱۴۶۶) ، ۲/۱۰۸۶۔متن میں الفاظ حدیث صحیح البخاري کے ہیں ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت