حالت میں اپنے شناسا لوگوں کی تایید کی جائے۔ایسا طرز عمل حقیقت میں اپنے تعلق والوں کے ساتھ ظلم کرنا ہے۔
2 ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ابو سلمہ ؒکو زمین کے تنازعہ سے دور کرنے کی غرض سے ظلم کے انجام سے ڈرایا۔
3 حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی بات کی تاکید وتایید کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی پیش کیا۔
حضرت معاذہ عدویہ رحمہ اللہ نے اپنی رضاعی بیٹی کو اس بات کی تلقین کی کہ وہ اکلِ حرام سے دور رہے۔
دلیل:
حافظ ابن جوزی رحمہ اللہ نے ابو عبدالرحمن سلمی رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا:
(( کَانَتْ مُعَاذَۃُ الْعَدَوِیَۃ [1] أَرْضَعَتْ أُمَّ الأَسْوَدِ،وَقَالَتْ أُمُّ الأَسْوَدِ:قَالَتْ لِيْ مُعَاذَۃَ الْعَدَوِیَۃ:''لاَ تُفْسِدِيْ رَضَاعِيْ بِأَکْلِ الْحَرَامِ،فَإِنِّيْ جَہَدْتُّ جُہْدِيْ حِیْنَ أَرْضَعْتُکَ حَتَّی أَکَلْتُ الْحَلاَلَ،فَاجْتَہِدِيْ أَنْ لاَ تَاْکُلِيْ إِلاَّ حَلاَلًا لَعَلَّکِ أَنْ تُوَفَّقِيْ لِخِدِمَۃِ سَیِّدِکِ،وَالرَّضَا بِقَضَائِہِ۔'' ) ) [2]
[2] صفۃ الصفوۃ ۴/۳۲۔