فهرس الكتاب

الصفحة 95 من 320

متعلق بھانجے کی غلط فہمی پر ان کا احتساب کیا۔

دلیل:

امام احمد رحمہ اللہ نے منبوذ رحمہ اللہ سے روایت نقل کی ہے کہ ان کی والدہ نے انہیں بتلایا:

(( أَنَّہَا بَیْنَا ہِيَ جَالِسَۃٌ عِنْدَ مَیْمُوْنَۃَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلی اللّٰه علیہ وسلم إِذْ دَخَلَ عَلَیْہَا ابْنُ عَبَّاسٍ رضی اللّٰه عنہما فَقَالَتْ:''مَالَکَ شُعْثًا؟''

قَالَ:''أُمُّ عَمَّارٍ مُرَجِّلَتِيْ حَائِضٌ۔''

فَقَالَتْ:''أَيْ بُنَيَّ ! وَأَیْنَ الْحَیْضَۃُ مِنَ الْیَدِ ؟ لَقَدْ کَانَ النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم یَدْخُلُ عَلَی إِحْدَانَا وَہِيَ مُتَکِّئَۃٌ حَائِضٌ،قَدْ عَلِمَ أَنَّہَا حَائِضٌ فَیَتَّکِيْ ئُ عَلَیْہَا،فَیَتْلُوْ الْقُرْآنَ وَہُوَ مُتَکِّيْئٌ عَلَیْہَا،أَوْ یَدْخَلُ عَلَیْہَا قَاعِدَۃً،وَہِيَ حَائِضٌ،فَیَتَکِّيْئُ فِيْ حِجْرِہَا،فَیَتْلُوْ الْقُرْآنَ فِيْ حِجْرِہَا،وَتَقُوْمُ وَہِيَ حَائِضٌ،فَتَبْسُطُ لَہُ الْخَمْرَۃَ فِيْ مُصَلاَّہُ۔''

وَقَالَ ابْنُ بَکْرٍ (أَحَدُ رَوَاۃِ الْحَدِیْثِ) :''خَمْرَتَہُ،فَیُصَلِّيْ عَلَیْہَا فِيْ بَیْتِيْ۔أَيّ بُنَيَّ ! وَأَیْنَ الْحَیْضَۃُ مِنَ الْیَدِ؟ )) [1]

''کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس بیٹھی تھیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما ان کے پاس آئے،انہوں [میمونہ رضی اللہ عنہا] نے دریافت کیا:''تمہارے بال کیوں بکھرے ہوئے ہیں ؟''

انہوں نے جواب دیا:''میری کنگھی کرنے والی [عورت] ام عمار بیماری

مسند ابی یعلی کے محقق نے اس حدیث کی [اسناد کو جید] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: ہامش المسند ۱۲ /۵۱۳)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت