کرنے کی سعادت سے محض اپنے فضل وکرم سے نوازا ہے۔
(( رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ وَتُبْ عَلَیْنَا إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْم ) )
میرا یہ زعم بھی نہیں کہ یہ حقیر کوشش خالی از خلل ہے {أَعُوْذُ بِاﷲِ أَنْ أَکُوْنَ مِنَ الْجَاہِلِیْنَ} ،بلکہ میں تو وہی بات دہراتا ہوں جو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے ایک فتویٰ دیتے ہوئے ارشاد فرمائی:
(( فَإِنْ یَکُ صَوَابًا فَمِنَ اللّٰهِ،وَإِنْ یَّکُ خَطَأً فَمِنِّيْ وَمِنَ الشَّیْطَانِ،وَاللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہُ بَرِیْئَانِ۔ ) ) [1]
''اگر یہ [فتویٰ] درست ہوا تو اللہ تعالیٰ کی طرف [یعنی اس کے فضل وکرم] سے ہے،اور اگر غلط ہوا،تو میری اور شیطان کی جانب سے ہے،اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلماس سے بری ء الذمہ ہیں''۔
مولائے علیم وحکیم کے فضل وکرم سے کتاب کی تیاری کے دوران درجِ ذیل باتوں کا اہتمام کرنے کی کوشش کی گئی ہے:
۱: اس کتاب کی اساس اور بنیاد قرآن وسنت ہے۔
۲: مسلمان خواتین کے فریضہ ئِ احتساب سر انجام دینے کے متعلق واقعات جمع کرنے کے لیے حدیث،سیرت،تراجم اور تاریخ کی کتابوں سے استفادہ کیا گیا ہے۔
۳: احادیث شریفہ کو ان کے اصلی مراجع سے نقل کیا گیا ہے۔صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے علاوہ دیگر کتب ِ حدیث سے نقل کردہ احادیث کے متعلق علمائے حدیث کے