فهرس الكتاب

الصفحة 243 من 320

(۱۵)ام طلق رحمہ اللہ کا بیٹے کو قرآن کے اس پر وبال ہونے سے ڈرانا

دلیل:

امام ابن جوزی رحمہ اللہ نے سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ:

(( قَالَتْ:أُمُّ طَلْقٍ لِطَلْقٍ:''مَا أَحْسَنَ صَوْتَکَ بِالْقُرْآنِ ! فَلَیْتَہَ لاَ یَکُوْنُ عَلَیْکَ وَبَالًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔''

فَبَکَی حَتَّی غُشِيَ عَلَیْہِ۔ )) [1]

''ام طلق ؒنے [اپنے بیٹے] طلق سے فرمایا:''تلاوتِ قرآن کے دوران تمہاری آواز کس قدر حسین ہے! کاش کہ وہ روز قیامت تیرے لیے وبال نہ بن جائے۔''

وہ رونے لگا یہاں تک کہ اس پر غشی طاری ہو گئی۔''

قصے پر تعلیق:

اس عظیم ماں نے جس بات سے اپنے بیٹے کو ڈرایا،وہ کس قدر خوفناک ہے ! قرآن کریم کے روز قیامت وبال بننے والوں کے لیے ہلاکت اور بربادی ہے ! کاش کہ ہمارے قاریوں اور حافظوں کی مائیں بھی انہیں اسی بات سے ڈرائیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت