فهرس الكتاب

الصفحة 191 من 320

''میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں حاضر ہوا،تو انہوں نے مجھ سے فرمایا:''کیا تمہارے روبرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی جاتی ہے؟''

میں نے کہا:''معاذ اﷲ''یا''سبحان اﷲ''یا اس طرح کا کوئی اور جملہ کہا۔

انہوں نے کہا:''میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:''جس نے علی (رضی اللہ عنہ) کو گالی دی،یقینا اس نے مجھے گالی دی۔''

ایک دوسری روایت میں ہے کہ ابو عبداللہ جدلی نے بیان کیا کہ میں نے عرض کی:

(( أَنّٰی یُسَبِّ رَسُوْلُ اللّٰهِ صلی اللّٰه علیہ وسلم ؟''

''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے گالی دی جاتی ہے ؟''

انہوں نے فرمایا:

(( أَلَیْسَ یُسَبُّ عَلِيٌ رضی اللّٰه عنہ وَمَنْ یُحِبُّہُ،وَقَدْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صلی اللّٰه علیہ وسلم یُحِبُّہُ۔ ) ) [1]

''کیا علی (رضی اللہ عنہ) اور ان سے محبت کرنے والے کو گالی نہیں دی گئی ؟ اور بلاشک وشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے محبت کرتے تھے۔''

قصے سے مستفاد باتیں:

1 حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی قدر ومنزلت اور مقام ومرتبہ کس قدر بلند وبالا تھا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت