فهرس الكتاب

الصفحة 302 من 320

ہے،تو کیا مرد دکان داروں کی وجہ سے مردوں اور عورتوں کا اختلاط نہیں ہوتا ؟

کیا محتسبہ کی تقرری سے اس قسم کے بازاروں سے اختلاط کا خاتمہ ہو جائے گا ؟ کیا محتسبہ کی تعیناتی کے ساتھ دکان دار مردوں کو اس بازار سے باہر نکال دیا جائے گا ؟

عورت کو معاملات سونپنے والی حدیث کی خلافت کے ساتھ تخصیص اور اس کی حقیقت

بعض لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان:

(( لَنْ یُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَہُمْ اِمْرَأَۃٌ ) )

[عورت کو اپنا معاملہ سونپنے والی قوم ہر گز فلاح نہیں پائے گی] کی منصب خلافت کے ساتھ تخصیص کی ہے۔ڈاکٹر امام نے تحریر کیا ہے:

''ہماری رائے میں اس حدیث کا تعلق منصب خلافت سے ہے۔'' [1]

ایک اور صاحب نے تحریر کیا ہے:

''اس حدیث شریف کے معنی اور بازار میں عورت کومحتسبہ مقرر کرنے کے مفہوم میں بہت فرق ہے۔'' [2]

ان حضرات کا یہ کہنا درست نہیں۔حدیث شریف کے الفاظ عام ہیں،جہاں بھی لوگ اپنے معاملات عورت کے سپرد کریں گے،فلاح وسعادت سے محرومی ان کا مقدّر بن جائے گی۔

[2] نظام الحسبۃ فيالإسلام ص ۷۹۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت