ابن عمر رضی اللہ عنہما]سے پوچھا۔''انہوں نے فرمایا:''بدعت ہے۔'' [1]
پھر انہوں [عروہؒ] نے ان سے سوال کیا:''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کیے؟''
انہوں نے فرمایا:''چار،ان میں سے ایک رجب میں تھا۔''
ہم نے ان کی تردید کرنامناسب نہ سمجھا۔
راوی نے بیان کیا:''ہم نے حجرے میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے مسواک کرنے کی آواز کو سنا،تو عروہ رحمہ اللہ نے آواز دی:''اے میری ماں ! [2] اے ام المومنین ! کیا آپ ابو عبدالرحمن کی بات سن رہی ہیں ؟''
انہوں نے فرمایا:''وہ کیا کہہ رہے ہیں ؟''
انہوں نے کہا:''وہ کہہ رہے ہیں:''یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے،ان میں سے ایک رجب میں تھا۔''
انہوں نے فرمایا:''اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمن پر رحم فرمائے ! وہ تو ہر عمرے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی رجب میں عمرہ ادا نہیں کیا۔''
صحیح مسلم کی روایت میں ہے:
(( وَابْنُ عُمَرَ رضی اللّٰه عنہما یَسْمَعُ،فَمَا قَالَ:لاَ،وَلاَ نَعَمْ۔سَکَتَ۔'' ) ) [3]
[2] حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ، عروہ ؒ کی خالہ تھیں ۔ اسی وجہ سے انہوں نے پہلے انہیں [اے میری ماں ] کے الفاظ سے آواز دی ۔ (ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۳/۶۰۱) ۔
[3] صحیح مسلم ، کتاب الحج ، باب بیان عدد عمر النبي صلی اللّٰه علیہ وسلم وأزمانہنّ ، رقم الحدیث ۲۱۹ (۱۲۵۵) ، ۲/۹۱۶۔