فهرس الكتاب

الصفحة 212 من 320

عَلَیْہِ،فَقَالَ:''أَنْتُمْ تَبْکُوْنَ،وَإِنَّہُ لَیُعَذَّب۔'' )) [1]

''عائشہ کے روبرو ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ذکر کیا گیا کہ:''میت کو اس کے گھر والوں کے اس پر رونے کے سبب عذاب دیا جاتا ہے۔''

انہوں نے فرمایا:''اللہ تعالیٰ ابو عبدالرحمن پر رحم فرمائے ! انہوں نے ایک چیز کو سنا،لیکن اس کو یاد نہیں رکھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک یہودی کا جنازہ گزرا،اور وہ [یعنی اس کے احباب واقارب] اس پر رو رہے تھے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:''تم [تو] اس پر رو رہے ہو،اوراس کو یقینا عذاب دیا جا رہا ہے۔''

ایک دوسری روایت میں ہے:

(( فَقَالَتْ عَائِشَۃُ رضی اللّٰه عنہا:''یَغْفِرُ اللّٰهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمٰن! أَمَا إِنَّہُ لَمْ یَکْذِبْ،وَلٰکِنَّہُ نَسِيَ أَوْ أَخْطَأَ۔إِنَّمَا مَرَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صلی اللّٰه علیہ وسلم عَلٰی یَہُوْدِیَّۃٍ یُبْکَي عَلَیْہَا،فَقَالَ:''إِنَّہُمْ یَبْکُوْنَ عَلَیْہَا وَإِنَّہَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِہَا۔'' ) ) [2]

''عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:''اللہ تعالیٰ ابو عبدالرحمن کو معاف فرما دے ! انہوں نے جھوٹ تو نہیں بولا،لیکن وہ بھول گئے ہیں،یا ان سے چوک ہوئی ہے۔ [اصل صورت حال یہ تھی کہ] یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی عورت کے [جنازے کے] پاس سے گزرے،جس پر رویا جا رہا تھا،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:''وہ تو اس پر رو رہے ہیں،اور اس کو یقینا قبر میں

[2] صحیح مسلم ، کتاب الجنائز ، باب المیت یُعَذَّب ببکاء أہلہ علیہ ، رقم الحدیث ۲۷ (۹۳۲) ، ۲/۶۴۳۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت