فهرس الكتاب

الصفحة 85 من 211

راضی اور خوش کرنا چاہے، وہ امت کے کمزور لوگوں کے ساتھ احسان کرے ۔ حضراتِ ائمہ احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن حبان اور حاکم حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، کہ انہوں نے بیان کیا: ''میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا:

''اِبْغُوْنِيْ فِيْ ضُعَفَآئِکُمْ، فَإِنَّمَا تُرْزَقُوْنَ وَتُنْصَرُوْنَ بِضُعَفَآئِکُمْ۔'' [1]

''میری رضا اپنے کمزور لوگوں کے ساتھ احسان کرکے حاصل کرنے کی کوشش کرو، کیونکہ تمہیں اپنے کمزور و ضعیف لوگوں ہی کی وجہ سے رزق اور نصرت ملتی ہے۔''

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادِ گرامی ''اِبْغُوْنِيْ فِيْ ضُعَفَآئِکُم'' کی شرح میں ملا علی قاری لکھتے ہیں:

اپنے فقیر لوگوں کے ساتھ احسان کرکے میری خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرو ۔ اس سے رزق اور نصرت و تائید ملتی ہے۔ [2]

[2] ملاحظہ ہو: مرقاۃ المفاتیح ۹/۹۹۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت